لکھنؤ،8؍مارچ(آئی این ایس انڈیا) یوپی اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سے پہلے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے لیے اچھی خبرہے۔ ایس پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعظم خان کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے اور دشمنی پھیلانے کے معاملے میں ضمانت مل گئی ہے۔ اعظم خان کو اس معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ضمانت دے دی ہے۔یہ مقدمہ یکم فروری 2019 کو لکھنؤ کے حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں اعظم خان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ اعظم خان کے خلاف سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے اور دشمنی پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ کیس 2014 کا ہے۔
اعظم خان کے خلاف حضرت گنج پولیس اسٹیشن نے علامہ جمیر نقوی کی تحریر کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا تھا۔اعظم خان کو اب اس معاملے میں ضمانت مل گئی ہے۔ اعظم خان نے اس معاملے میں ضمانت کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ اعظم خان کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ضمانت منظور کر لی ہے۔اعظم کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ان میں تین سال کی قید ہے۔ تاہم ضمانت ملنے کے باوجود اعظم خان اب بھی جیل میں ہی رہیں گے۔ جسٹس رمیش سنہا کی بنچ نے اعظم خان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ اعظم خان یوپی کی سیتا پور جیل میں بند ہیں۔